دو چار

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - ملاقات، کسی کا کسی سے اچانک ملنا، سامنا ہونا۔  تڑپے ہے دل پیام سن اس بے قرار کا تسکین جاں ہے وقت ہو جس دم دو چار کا      ( ١٧٩٩ء، دیوان چندا (ق)، ١٧ ) ١ - کئی، کچھ، چند۔  اپنے دو چار گناہوں سے بھی آتا ہے حجاب ہم خطا کار دعاؤں سے بہل جاتے ہیں      ( ١٩٧٥ء، پردۂ سخن، ٥٨ ) ٢ - مقابل، آمنے سامنے۔  دو چار برق تجلی سے رہنے والوں نے فریب نرم نگاہی کے کھائے ہیں کیا کیا      ( ١٩٤٦ء، رمز و کنایات، ٣ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم صفت عددی کے ساتھ فارسی اسم صفت عددی 'چہار' سے ماخوذ لفظ 'چار' لگا کر مرکب بنایا گیا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٥٧ء کو "گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مؤنث